درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں

درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں

جو کام بنتے نہیں بنائے جاتے ہیں

 

نبی کے در پہ کبھی مانگنا نہیں پڑتا

یہاں تو جام نظر سے پلائے جاتے ہیں

 

نگاہِ ساقی کوثر کا یہ کرشمہ ہے

کہ مست کرنے سے پہلے اٹھائے جاتے ہیں

 

قسم خدا کی وہ ویراں کبھی نہیں ہوتا

نبی کی یاد سے جو دل بسائے جاتے ہیں

 

مرے حضور کی محفل کو جو سجاتے ہیں

انہیں بہشت کر مژدے بنائے جاتے ہیں

 

مرے کریم کی بندہ نوازیاں دیکھو

کہ مجھ سے عاصی بھی در پر بلائے جاتے ہیں

 

دیئے دلوں میں جو روشن ہیں عشق احمد کے

جفا کی آندھی سے وہ کب بجھائے جاتے ہیں

 

انہیں کو ملتی ہے اہلِ وفا کی سرداری

نبی کے نام پہ جو سر کٹائے جاتے ہیں

 

نبی کی نعت کا صدقہ جہاں میں جاتا ہوں

نیازیؔ میرے لیے دل بچھائے جاتے ہیں​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے
نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
میں بے بس و لاچار ہوں، بیمار بہت ہوں
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
کہاں سے لاؤں وہ حرف و بیاں نمی دانم
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی