درکار اک وہی ہے سہارا گھڑی گھڑی

درکار اک وہی ہے سہارا گھڑی گھڑی

وردِ لساں ہے اسم اسی کا گھڑی گھڑی

 

سردارِ مرسلاں ہے وہ اعلیٰ رسول ہے

اس کو لکھا الہٰ کا دلارا گھڑی گھڑی

 

محکوم عاصی لوگوں کو مل ہی گئی اماں

ہر درد کا ہوا ہے مداوا گھڑی گھڑی

 

سارے ادھورے کام مکمّل ہوئے مرے

اکرام کر رہا ہے وہ مولا گھڑی گھڑی

 

ادراک و آگہی کا ہے ہر در کھُلا ہُوا

ہر گل کدہ ہے علم کا مہکا گھڑی گھڑی

 

کوہِ الم ہٹا ہے ہوئے درد سارے دور

سائل کو مل رہا ہے سہارا گھڑی گھڑی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ