اردوئے معلیٰ

Search

درہم کی طلب ہے نہ ہی دینار کی خواہش

ہے دولتِ نظّارۂِ بیزار کی خواہش

 

جب خاکِ کفِ پائے شہِ دیں ہو نظر میں

پھر کون کرے بارشِ انوار کی خواہش

 

مل جائے مجھے گر خس و خاشاکِ مدینہ

میں وار دوں اُس پر گل و گلزار کی خواہش

 

ہو دستِ سکوں سینئہ صد چاک پہ آقا

اب مجھ کو نہیں مرہمِ زنگار کی خواہش

 

مل جائے کبھی صدقئہ گیسوئے محمد

رہتی ہے یہی میری شبِ تار کی خواہش

 

یہ ہجرِ درِ سیدِ لولاک کا ہے فیض

ورنہ کوئی کرتا بھی ہے آزار کی خواہش؟

 

اک چشمِ مسیحائی ہو سرکار اِدھر بھی

کچھ اور نہیں آپ کے بیمار کی خواہش

 

سرکار یہ حاضر ہے نواز آپ کے در پر

ہے اِس کو فقط سایۂ دیوار کی خواہش

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ