دسمبر جا رہا ہے

دسمبر جارہا ہے
سبز شاخوں سے
شگوفے چھین کر
سوچوں پہ چھائی کہرسی ہے
بے ثباتی کا یہ عالم ہے
ہراِک سہما ہوا ہے
ہر کوئی ڈرتا ہے
جانے کس گھڑی کیا حادثہ ہو جائے
سب پر خوف طاری ہے
گذرتے اِس برس نے
دُکھ دیے ہیں
چین چھینا ہے
ہمیں لیکن
ابھی جینا ہے
اِس اُمید پر
بدلیں گے یہ حالات
اگلے سال
ہوگی زندگی کی بات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوچتا ہوں صیدِ مرگ ِ ناگہاں ہو جاؤں گا
مجھے تمغۂ حُسنِ دیوانگی دو
انتخاب 1988ء
تھک گئی ہے گناہ گار ازل
اند یشہ
کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں
آہنی دیوار میں در دیکھنا
ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ
ستّر برس
بارش بھری رات

اشتہارات