اردوئے معلیٰ

Search

دشتِ احساس پہ ہے لطف کا میلان فراخ

ترا انعام فزوں ہے ، ترا احسان فراخ

 

اِک خطا کار کو حاصل ہے شفاعت کی نوید

اِک گماں زاد کا ہے عفو پہ ایقان فراخ

 

اُن کی توفیق کو شایاں ہے بلا روک عطا

اُن کی درگاہ میں رکھ عرض کا دامان فراخ

 

ملتفت ہوتے گئے وہ بھی بہ حرفِ مدحت

جس قدر ہوتا گیا نعت کا ارمان فراخ

 

ہر نفس ساتھ رہی ہے ترے ممدوح کی مدح

داورِ حشر ! مَیں لایا ہُوں یہ سامان فراخ

 

خام ہے صیغۂ فن بہرِ بیانِ عظمت

لغت و حرف کا ہو جتنا دبستان فراخ

 

درگۂ ناز میں سب شوق ہیں معذور بہ عجز

آپ کا اسم عُلا ، آپ کی ہے شان فراخ

 

حرف میں آپ کے ’’ یُوحیٰ ‘‘ کے ترفع کا فراز

نُطق میں آپ کے کُھلتا ہُوا قرآن فراخ

 

بخشوا لیں گے وہ مقصودؔ مری فردِ عمل

شکر ہے اُن کی شفاعت پہ ہے ایمان فراخ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ