اردوئے معلیٰ

دشتِ طیبہ ہے ہمیں باغِ ارم کی صورت

یاخدا ! اب تو دکھا دونوں حرم کی صورت

 

حالِ دل کس کو سناؤں آپ کے ہوتے ہوئے

آپ ہی ہم کو دکھائیں گے کرم کی صورت

 

جس کو ملتا ہے جو ملتا ہے آپ ہی کا صدقہ ہے

آپ نہ چاہیں تو نظر آئے نہ غم کی صورت

 

آپ چاہیں تو ہو شاخِ شجر پل میں شہا

بے گماں تیز تریں تیغِ دو دم کی صورت

 

دور ہے ہم سے شہِ کون و مکاں کے صدقے

درد و غم رنج و الم ظلم و ستم کی صورت

 

درِ اقدس پہ جبیٖں خم ہو مری ، میرے خدا

جس گھڑی سامنے ہو مُلکِ عدم کی صورت

 

از پیَ نوریؔ ، مُشاہدؔ کی دعا ہے مولا

’’اُن کے کوچے میں رہوں نقشِ قدم کی صورت‘​‘​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات