اردوئے معلیٰ

دشت دل میں خواہشوں کی آفرینی ، مر کہیں

تو مرے قابل نہیں شہرت کمینی ،مر کہیں

 

تھوڑے دن تو دے مجھے مہلت سکون قلب کی

میری کائر گریہ زاری ہجر بینی ، مر کہیں

 

اے مری ہجرت کشائی چھوڑ دے پاوں مرے

خود فریبی ، لامکانی ، بے زمینی ، مر کہیں

 

بحث کرتی دل میں اگتی اک مسلسل ، بے بسی

مجھ سے لڑتی ، بین کرتی بے یقینی ، مر کہیں

 

اے دلِ کم ظرف ، اتنی بدگمانی پال کر

تو نے میری آخری امید چھینی ، مر کہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات