اردوئے معلیٰ

دشمن کی بات جب تری محفل میں رہ گئی

امید یاس بن کے مرے دل میں رہ گئی

 

بیتاب ہو کے حسرتِ دل ، دل میں رہ گئی

لیلیٰ تڑپ کے پردۂ محمل میں رہ گئی

 

تو ہم سے چھپ گیا تو تری شکل دل فریب

تصویر بن کے آئینۂ دل میں رہ گئی

 

دشمن کے بھیس میں نہ کہا مدعائے دل

یہ چال ہم سے یار کی محفل میں رہ گئی

 

کم آبِ تیغ سے نہ بھی نہ سوزِ دروں ہوا

اک آگ تھی کہ سینۂ بسمل میں رہ گئی

 

دیکھا جو قتلِ عام تو ہر لاش پر اجل

اک آہ بھر کے کوچۂ قاتل میں رہ گئی

 

اک آرزوئے غیر کہ نکلی ہزار بار

اک میری آرزو کے مرے دل میں رہ گئی

 

نکلا وہاں سے میں تو مرے دل کی آرزو

سر پیٹتی ہوئی تری محفل میں رہ گئی

 

حیرت نے میری کام کیا جلوہ گاہ میں

آئینہ بن کے اُن کے مقابل میں رہ گئی

 

دل سے جو نکلی آہ تو لب تک نہ آ سکی

تھک کر غریب پہلی ہی منزل میں رہ گئی

 

شاید تصدق آپ کے جلوے کا مل گیا

اتنی جو روشنی مہِ کامل میں رہ گئی

 

دیکھا نہ اُس نے آنکھ اٹھا کر بھی سُوئے غیر

آج اپنی شرم یار کی محفل میں رہ گئی

 

میں کیا کہوں رساؔ کہ مرے دل پہ کیا بنی

تلوار کھنچ کے جب کف قاتل میں رہ گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات