دعا کو بھیک مل جائے اثر کی

دعا کو بھیک مل جائے اثر کی

ملے توفیق طیبہ کے سفر کی

 

شعورِ پیرویِ مصطفی دے

مرے اللہ ! سُن لے چشمِ تر کی

 

وہی اُسوہ رہے پیہم نظر میں

کہ جس پر ہے بِنا اُجلی سحر کی

 

ضرورت ہے مری تاریکیوں کو

ابو القاسم کی سیرت کے قمر کی

 

گزرنا ہے جہانِ آب و گل سے

الٰہی! خیر ہو میرے سفر کی

 

رسولِ ہاشمی کا کوئی پیرو

کبھی صورت نہیں دیکھے سقر کی

 

دعائیں مانگ لی ہیں میں نے ساری

الٰہی! اب ضرورت ہے اثر کی

 

عزیزؔ احسن کرم کا ملتجی ہے

عطا کر حاضری پھر اپنے در کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زخموں کی قندیل اور روشنی کا لہو
اَلْعَظْمَۃُ لِلّٰہ !
اک کرم اور کرم بانٹنے والے کر دے
ذہن و دل ہوتے ہیں روشن آپ ہی کے نام سے
اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
طلوعِ سحر
اِک صنفِ سُخن جس کا تعلق ہے نبی سے
کیاکروں عرض میں جب رب ہے علیم اور خبیر
جذبۂ الفت شہہِ خیراُلامم کی نذر ہے
میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربیّ

اشتہارات