دعا کی اپنی ضرورت ، شراپ کی اپنی

دعا کی اپنی ضرورت ، شراپ کی اپنی

طلب جدائی کی اپنی ملاپ کی اپنی

 

قدم بڑھاتے ہوئے ڈگمگا گئے ہم لوگ

اٹھا کے گٹھڑی چلے پُن و پاپ کی اپنی

 

میں کس کے چھوڑ کے جانے پہ کم کروں ماتم

کہ ماں کی اپنی محبت تھی باپ کی اپنی

 

میں خود ہی پیچھا کئی دن سے کررہی اپنا

سنی ہے میں نے صدا پھر سے چاپ کی اپنی

 

کسی طرح مرے غصے کو درگزر کرئیے

میں بدمزاج سہی ہوں تو آپ کی اپنی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ