دعا ہے گلشنِ طیبہ میں روز جانے کی

دعا ہے گلشنِ طیبہ میں روز جانے کی

وہاں رکھوں گا میں بنیاد آشیانے کی

 

مری طلب ہے کہ جا کے مدینہ بس جاؤں

جگہ ذرا سی ملے مجھ کو سر چھپانے کی

 

بسا لو دل میں محبت حضور کی یارو

جنہیں ہو آرزو جنت میں گھر بنانے کی

 

مدینے مجھ کو بھی لے کے چلو خدا کے لئے

پڑی ہوئی ہے مجھے حالِ دل سنانے کی

 

دیارِ طیبہ میں جا کر فداؔ عقیدت سے

تمنا دل میں ہے نعتِ نبی سنانے کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر طرف کائنات میں تم ہو
تُوں دُنیا دے باغ دا
گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا
نبی سے عشق میں روشن کیے اللہ نے میرے
اسم اللہ، میری جاگیر
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں

اشتہارات