دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو

 

دلوں میں عشق احمد کو بسائے ایسی مدحت ہو

ادب کا منصبِ اعلیٰ دلائے ایسی مدحت ہو

 

عطا حسنِ ارادت ہو، بصیرت بھی ملے مجھ کو

سبق سیرت کا جو ازبر کرائے ایسی مدحت ہو

 

سلیقہ مجھ کو بھی حسنِ بیاں کا دے مرے مولا

حریمِ حرف میں خوشبو بسائے ایسی مدحت ہو

 

میں کھو جاتی ہوں اکثر یادِ طیبہ میں‘ مرے مولا

رسائی مجھ کو طیبہ تک دلائے ایسی مدحت ہے

 

وہ مدحت ہو کہ جس میں حرمتِ سرور مجسم ہو

جو میری فکر کو اعلیٰ بنائے ایسی مدحت ہو

 

ثنائے شاہِ طیبہ کا قرینہ بھی میسر ہو

گہر افکار کے ہر سو لٹائے ایسی مدحت ہو

 

اویسی اور بلالی عشق کی تنویر مل جائے

مرے الفاظ میں خوشبو سمائے ایسی مدحت ہو

 

یہی اک آرزو ہے نازؔ کی اب اے مرے آقا

درِ اقدس پہ آکر خود سنائے ایسی مدحت ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم
حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں
اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے
اس خالق کونین کی مرضی بھی ادھر ہے
نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے
ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں