دلوں کو رکھتا ہے روشن جمالِ گنبدِ خضرا

 

دلوں کو رکھتا ہے روشن جمالِ گنبدِ خضرا

رہے شاداب ہر لمحہ خیالِ گنبدِ خضرا

 

ہیں زیرِ سبز گنبد جلوہ فرما سیدِ عالم

کوئی بھی لا نہیں سکتا مثالِ گنبدِ خضرا

 

نہ دیکھا تھا تو تھی خواہش کہ دیکھوں روضۂ اطہر

جو دیکھا بڑھ گیا شوقِ وصالِ گنبدِ خضرا

 

محافظ ہے خداوندِ جہاں لاریب! جب اُس کا

گھٹا سکتا نہیں کوئی کمالِ گنبدِ خضرا

 

مقدر ہوگی بربادی ، فنا ہو جائے گا وہ خود

کہ جو بھی چاہتا ہوگا زوالِ گنبدِ خضرا

 

انھیں غم چھو نہیں سکتے ، مسرت اُن کی قسمت ہے

جو اپنے دل میں رکھتے ہیں خیالِ گنبدِ خضرا

 

دمِ آخرہو یارب سامنے روضہ نگاہوں کے

مُشاہدؔ کرتا ہےتجھ سے سوالِ گنبدِ خضرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ملے عظمت اسی کو بس جہاں میں
خامہ مرا دیتا ہے بصد عجز گواہی
کیا عجب اوجِ کمالات ہے، ماشااللہ
تشنہ نیازِ حرف کو اذن مدام آپ کا
مقصودِ دعا قلب پہ ظاہر ہوا جب سے
تخلیقِ کائنات کا آغاز آپؐ ہیں
شرح مزمل ہیں طہٰ آپ ہیں
وصف سرکار کے بیاں کیجئے
نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے
خیالِ نعت تھا یا الفتِ سرکار کی بارش