اردوئے معلیٰ

Search

 

دلوں کو رکھتا ہے روشن جمالِ گنبدِ خضرا

رہے شاداب ہر لمحہ خیالِ گنبدِ خضرا

 

ہیں زیرِ سبز گنبد جلوہ فرما سیدِ عالم

کوئی بھی لا نہیں سکتا مثالِ گنبدِ خضرا

 

نہ دیکھا تھا تو تھی خواہش کہ دیکھوں روضۂ اطہر

جو دیکھا بڑھ گیا شوقِ وصالِ گنبدِ خضرا

 

محافظ ہے خداوندِ جہاں لاریب! جب اُس کا

گھٹا سکتا نہیں کوئی کمالِ گنبدِ خضرا

 

مقدر ہوگی بربادی ، فنا ہو جائے گا وہ خود

کہ جو بھی چاہتا ہوگا زوالِ گنبدِ خضرا

 

انھیں غم چھو نہیں سکتے ، مسرت اُن کی قسمت ہے

جو اپنے دل میں رکھتے ہیں خیالِ گنبدِ خضرا

 

دمِ آخرہو یارب سامنے روضہ نگاہوں کے

مُشاہدؔ کرتا ہےتجھ سے سوالِ گنبدِ خضرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ