دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں یہ کیف کیوں آج آ رہے ہیں

دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں یہ کیف کیوں آج آ رہے ہیں

کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے حضور تشریف لا رہے ہیں

 

نوازشوں پر نوازشیں ہیں عنایتوں پر عنایتیں ہیں

نبی کی نعتیں سنا سنا کر ہم اپنی قسمت جگا رہے ہیں

 

کہیں پہ رونق ہے مفلسوں کی کہیں پہ رونق ہے دل جلوں کی

ہم کتنے خوش بخت ہیں جو نبی کی محفل سجا رہے ہیں

 

نہ پاس پی ہو تو سونا ساون وہ جس پہ راضی سہاگن

جنہوں نے پکڑا نبی کا دامن انہی کے گھر جگمگا رہے ہیں

 

کہاں کا منصب کہاں کی دولت قسم خدا کی یہ ہے حقیقت

جنہیں بلایا ہے مصطفٰی نے وہی مدینے کو جا رہے ہیں

 

میں اپنے خیرالورٰی کے صدقے میں ان کی شان عطا کے صدقے

بھرا ہے عیبوں سے میرا دامن حضور پھر بھی نبھا رہے ہیں

 

بنے گا جانے کا پھر بہانہ کہے گا آ کر کوئی دیوانہ

چلو نیازی تمھیں مدینے مدینے والے بلا رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کالی کملی والے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا
حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
مرا کیف نغمۂ دل، مرا ذوق شاعرانہ​
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات