دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

آنکھوں سے سر ہے قرباں آنکھیں ہیں سر سے صدقے

 

کہتے ہیں گرد عارض باہم یہ دونوں گیسو

میں ہوں ادھر سے صدقے تو بھی ادھر سے صدقے

 

کہتا ہے مہر و مہ سے رخ دیکھ کر نبی کا

تو شام سے ہے قرباں میں ہوں سحر سے صدقے

 

ناف زمیں ہے شہ کا مانند کعبہ روضہ

شرقی ادھر سے قرباں غربی ادھر سے صدقے

 

بولے ملک جو آدم نازاں ہوئے ولا پر

تم آج ہو فدائی ہم پیشتر سے صدقے

 

جو مال امیر کا ہے مالک ہیں آپ اس کے

دل آپﷺ پر سے صدقے جاں آپﷺ پر سے صدقے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی
تمنّا کا خلاصہ آرہا ہے
خیال افروز ہے نام محمدﷺ
رُوئے پُر نور ہے والضحیٰ آپؐ کا
ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ
جاتی ہیں بارشوں سے کر کے وضو ہوائیں
شاعر بنا ہوں مدحتِ خیرالبشر کو میں
نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں
مُنہ سے جب نامِ شہنشاہِ رسولاں نکلا
میں باغِ مدحت میں کھل اٹھا ہوں کہ نعت تیری میں لکھ رہا ہوں