اردوئے معلیٰ

Search

دل ابھی گہوارۂ اوہام ہے

رشتۂ ایماں ابھی تک خام ہے

 

کفر سے آلودہ اُف اسلام ہے

جی رہا ہوں موت کا ہنگام ہے

 

موت ہے وجہِ سکونِ زندگی

ابتدا منت کشِ انجام ہے

 

حسن محتاجِ نگاہِ عشق کب

حسن اپنا آپ ہی انعام ہے

 

خوفِ رسوائی سے نالہ کش نہیں

لوگ یہ سمجھے مجھے آرام ہے

 

بے کسی، مجبوریاں، درد، آہ و غم

زندگی شاید اسی کا نام ہے

 

حسنِ ظاہر پر جو مرتے ہیں نظرؔ

حسنِ باطن سے انھیں کیا کام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ