اردوئے معلیٰ

دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر

دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر

یعنی سلطانِ امم کا شہرِ رحمت چھوڑ کر

 

مصطفےٰ کے در پہ ہر آرام ہے ارزاں مجھے

کس لیے جاؤں کہیں یہ کوئے راحت چھوڑ کر

 

رہ گزار شہر طیبہ مہرباں جس پر ہوئی

روشنی میں آ گیا وہ راہ ظلمت چھوڑ کر

 

حامل تاج شفاعت ہیں شفیع المذنبیں

خلد میں تنہا نہ جائیں گے وہ امت چھوڑ کر

 

اصلِ کل ہے سرورِ کون و مکاں کی ذات پاک

اور خیال و خواب ہے سب یہ حقیقت چھوڑ کر

 

ہو نہیں سکتی بہار افزا کبھی بزم حیات

مصطفےٰ کا گلشنِ لطف و عنایت چھوڑ کر

 

غیر ممکن ہے کہ جاؤں اے صدف سوئے غزل

سرور کونین کی دہلیزِ مدحت چھوڑ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ