اردوئے معلیٰ

Search

دل بہت بے قرار ہے آقا

آپ کا انتظار ہے آقا

 

آپ کا ذکر ہے سکوں دل کا

آپ سے ہی قرار ہے آقا

 

آپ رہبر ہیں آپ ہی منزل

سہل اب رہگزار ہے آقا

 

میرا سب کچھ مری غلامی ہے

بس یہی افتخار ہے آقا

 

کچھ سہی آپ سے ہوں وابستہ

فضلِ پروردگار ہے آقا

 

کیا کہوں آپ سے چھپا تو نہیں

میرا جو حالِ زار ہے آقا

 

میں کہاں کیا مرا عمل نامہ

آپ پر انحصار ہے آقا

 

ہے یہی التجائے چشمِ نم

یہی دل کی پکار ہے آقا

 

اک نگاہِ کرم مری جانب

ہر نفس گنہگار ہے آقا

 

صیقلِ زنگِ دل کی حسرت ہے

دل پہ چھایا غبار ہے آقا

 

آپ کا لطف و جود و احساں ہو

ہر خزاں پھر بہار ہے آقا

 

اک اشارہ جو آپ فرما دیں

میری کشتی بھی پار ہے آقا

 

آپ چاہیں تو کیا نہیں ممکن

آپ کا اختیار ہے آقا

 

پاس اک بار پھر بلا لیجے

آپ سے دوری بار ہے آقا

 

بارشِ نور میں نہانے کو

پھر یہ دل بیقرار ہے آقا

 

ذرہ ذرہ یہاں کا میرے لئے

گوہرِ شاہوار ہے آقا

 

سنگِ در ہو جبینِ عارف ہو

یہ دعا بار بار ہے آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ