اردوئے معلیٰ

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو

 

مجھ پُر خطا کی لاج تمہارے ہی ہاتھ ہے

مجھ ننگ دو جہاں کا وسیلہ تمہی تو ہو

 

جو دستگیر ہے وہ تمہارا ہی ہاتھ ہے

جو ڈوبنے نہ دے وہ سہارا تمہی تو ہو

 

دنیا میں رحمت دو جہاں اور کون ہے

جس کی نہیں نظیر وہ تنہا تمہی تو ہو

 

پھوٹا جو سینہء شب تار الست سے

اس نور اولیں کا اجالا تمہی تو ہو

 

جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر

اس کی حقیقتوں کے شناسا تمہی تو ہو

 

سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا

سب غایتوں کی غایت اُولٰی تمہی تو ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات