دل جلتا ہے

جب جانا پہچانا موسم
اِک آن میں رنگ بدلتا ہے
ان گنت زمانوں سے جاری
کسی ربط کی سانسیں ٹوٹتی ہیں
جب ترک ِ تعلق کے طوفان میں
چاہت کی کومل کونپل
یک لخت بکھرنے لگتی ہے
جب وقت کے آنگن میں رقصاں
کسی عشق کی خوشبو تھک کر مرنے لگتی ہے
جب دور اُفق پر یاد کا سورج ڈھلتا ہے
رگ رگ سے درد اُبلتا ہے
دل جلتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سبھی سرگوشیاں جب ھار کے دم توڑ دیتی ھیں
انگور سے پہنچا تھا نہ انجیر سے پہنچا
ملّی نغمہ
الف لیلی
رہائش
ھمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے
ھم تجھ سے دُور اور ترے آس پاس لوگ
چاند آ بیٹھا ہے پہلو میں ، ستارو ! تخلیہ
نہ کُھلا تیرے ھجر کا روزہ
تجھ کو بھی ذوقِ سیر و تماشا ہے تو بتا