اردوئے معلیٰ

Search

دل سلامت رہے رحمت کی نظر ہونے تک​

یہ مکاں بیٹھ نہ جائے کہیں گھر ہونے تک​

 

مجھ کو آئینہ بنایا ہے مِرے آقا نے​

سنگ تھا میں ، نگہِ آئینہ گر ہونے تک​

 

آپ سب جانتے ہیں ، آپ سے پنہاں کیا ہے​

کیسے گزری ہے شبِ ہجر ، سحر ہونے تک​

 

مجھ کو آجائے گا مدحت کا سلیقہ آخر ​

وہ چھپالیں گے مِرے عیب ہنر ہونے تک​

 

دیکھیں کب موج میں آتا ہے وہ دریائے کرم​

” دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک "​

 

اب تو ہر سمت وہی وہ ہیں نگاہوں کے حضور​

دل میں پنہاں تھے وہ مسجودِ نظر ہونے تک​

 

کہیں محرومِ زیارت ہی نہ رہ جاؤں ایاز​

مر نہ جاؤں کہیں آقا کو خبر ہونے تک​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ