دل سے تم عزت محمد کی کرو

دل سے تم عزت محمد کی کرو

غور اک انسان کی تعلیم الفت پہ کرو

 

جن کے دل میں عزت و عظمت محمد کی نہیں

کر نہیں سکتے بزرگوں کی وہ عزت بالیقیں

 

ہندو و مسلم کو یکساں یہ میرا پیغام ہے

غور سے دونوں پڑھیں دانائی اس کا نام ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خُدا منہ چوم لیتا ہے شہیدؔی کس محبت سے 
ترا ذاکر خدا خود ہے ، کراں کیویں ثنا تیری
سن احقر افرادِ زمن کی فریاد
ہر طرف اُنؐ کا بول بالا ہے
محبوبِ خداؐ کون بھلا اُن کے سوا ہے
ہر گھڑی ذکر مصطفیٰؐ کرنا
وہی سردارِ جُملہ مُرسلاں ہیں
مرے سرکارؐ ختم المُرسلیںؐ ہیں
بھاگ جگے گا ہم بھی مدینے جائیں گے ان شاءاللہ
’’شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب‘‘

اشتہارات