اردوئے معلیٰ

Search

دل سے نِکلی ہُوئی ہر ایک صدا کیف میں ہے

نامِ آقا کے وسیلے سے دعا کیف میں ہے

 

درِ سرکار سے منہ مانگی مرادیں لے کر

نعمتیں ہاتھ میں ہیں اور گدا کیف میں ہے

 

ہاتھ پھیلائے ہُوئے شاہ و گدا ہیں حاضر

اُن کے دربار میں تو ابرِ سخا کیف میں ہے

 

خُوں کے پیاسوں کو مُعافی کا دیا پروانہ

فتحِ مکہ پہ عنایات و عطا کیف میں ہے

 

مرحبا آمدِ سرکار کی ساعت آئی

فرش سے عرش تلک ساری فضا کیف میں ہے

 

اُن کی دہلیز پہ دم توڑ دے جو بھی آکر

ہے مقدر کا دھنی اُس کی قضا کیف میں ہے

 

آج پھر یادِ مدینہ نے کیا ہے بے چین

دل میں اُمید کا پھر آج دِیا کیف میں ہے

 

وجد کرتے ہُوئے گُزریں گے غلامانِ نبی

ربِّ سَلِّم کی وہ پُر نور صدا کیف میں ہے

 

جب سے دیکھی ہے درِ شاہ کی مرزا نے بہار

بے خودی کا ہے سماں صبح و مسا کیف میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ