اردوئے معلیٰ

دل میں جو الفت محبوب احد رکھتے ہیں

اپنی بخشش کی وہی لوگ سند رکھتے ہیں

 

اپنے آقا کی مدد پر ہے بھروسہ ہم کو

کب کسی اور سے امید مدد رکھتے ہیں

 

یہ غلامان شہ دیں ہیں حقارت سے نہ دیکھ

تاجداروں سے بلند اپنے یہ قد رکھتے ہیں

 

میرے آقا کی عطاؤں کا نہیں کوئی جواب

کب روا اپنے سوالی پہ وہ رد رکھتے ہیں؟

 

عظمت سرور عالم پہ جو ہوتے ہیں نثار

جاوداں خود کو وہی تا بہ ابد رکھتے ہیں

 

جو سمجھتے نہیں آقائے جہاں کی عظمت

کیسے کہدوں کہ وہ کچھ عقل و خرد رکھتے ہیں

 

ذہن میں رکھتے ہیں کیسے وہ خیال جنت

دل میں جو سید کونین سے کد رکھتے ہیں

 

طاق انفاس پہ روشن ہیں درودوں کے چراغ

للہ الحمد کہ سامان لحد رکھتے ہیں

 

وہ کہاں لاتے ہیں خاطر میں متاع کونین

شاہ کونین سے جو حبِ اشد رکھتے ہیں

 

صرف اور صرف ٹھکانا ہے جہنم ان کا

آل سرکار سے جو بغض و حسد رکھتے ہیں

 

نورؔ رہتے ہیں جو ہر وقت ثنا میں مصروف

وہی عقبیٰ کے لیے زاد و رسد رکھتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات