اردوئے معلیٰ

Search

دل میں رہے گا شافعِ محشر کا اعتبار

فردِ عمل ہے گرچہ گناہوں سے داغدار

 

آقا کی ہوگی ہم کو زیارت زہے نصیب

ہم سب کو اب ہے صبحِ قیامت کا انتظار

 

غفلت میں ہم نے آہ گزاری تمام عمر

بخشش کا ہوگا ان کی شفاعت پہ انحصار

 

آقا کے روبرو نہ اٹھائیں گے ہم نظر

لب بستہ ہم رہیں گے خطاوؔں پہ اشکبار

 

محشر میں ہوگا جس گھڑی دیدارِ مصطفیٰ

آئے گا کیسے اے دلِ مضطر تجھے قرار

 

بھیجیں گے نعت گویوں کو آقا پیام خاص

ان کی نوازشوں کا نہ ہم کر سکے شمار

 

برپا کریں محفلِ میلاد ہم حسن

گزرے گا اب مدینے میں یوں عہد پُر بہار

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ