دل میں ہو یادِ مصطفیٰ غم سے رہائیاں بھی ہوں

دل میں ہو یادِ مصطفیٰ غم سے رہائیاں بھی ہوں

لب پہ ہو نامِ مصطفیٰ نعت کمائیاں بھی ہوں

 

اے مرے چارہ گر حبیب! آپ کے شہر کے قریب

اشک فشاں محبتیں وجد میں آئیاں بھی ہوں

 

اے مرے خالقِ سخن! مجھ کو وہ حرفِ نور دے

ذکرِ نبی کے شہر تک جس کی رسائیاں بھی ہوں

 

عہدِ خزاں بہار ہو، ختم یہ انتظار ہو

خواہشِ دید کے لیے جلوہ نمائیاں بھی ہوں

 

ایک نگاہِ لطف سے طے ہوں سفر کے مرحلے

وہم و گماں ہوں فاصلے، ختم جدائیاں بھی ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ