دل میں ہو یادِ مصطفیٰ ﷺ غم سے رہائیاں بھی ہوں

دل میں ہو یادِ مصطفیٰ ﷺ غم سے رہائیاں بھی ہوں

لب پہ ہو نامِ مصطفیٰ ﷺ نعت کمائیاں بھی ہوں

 

اے مرے چارہ گر حبیب! آپ کے شہر کے قریب

اشک فشاں محبتیں وجد میں آئیاں بھی ہوں

 

اے مرے خالقِ سخن! مجھ کو وہ حرفِ نور دے

ذکرِ نبی ﷺ کے شہر تک جس کی رسائیاں بھی ہوں

 

عہدِ خزاں بہار ہو، ختم یہ انتظار ہو

خواہشِ دید کے لیے جلوہ نمائیاں بھی ہوں

 

ایک نگاہِ لطف سے طے ہوں سفر کے مرحلے

وہم و گماں ہوں فاصلے، ختم جدائیاں بھی ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپﷺ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
تیرا نادان آقا کوئی اور ہے
جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں
کیا خبر اب عشقِ نبی ﷺ کونسی منزل میں ہے
ان کی ہوئی جو بات تو ٹھنڈی ہوا چلی
فراقِ ہستیِ اقدس کا غم رُلا جاتا
دو جگ کے مہاراج ، رسولوں کے ہو سرتاج
سنا، دیارِ کا سارا حال مجھے
اذاں میں مصطفیٰ کا نام جب ارشاد ہو وے ہے
کہتا ہوں جب بھی نعت مدینے کے شاہ کی