اردوئے معلیٰ

دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

 

دل نشیں ہیں ترے خال و خد یا نبی

تو ہے محبوبِ ربِ احد یا نبی

 

لاڈلا تو ہے خلاقِ کونین کا

ناز اٹھاتا ہے تیرے صمد یا نبی

 

نکتہ بیں نکتہ داں نکتہ رس آپ ہیں

دنگ ہیں اہلِ عقل و خرد یا نبی

 

قبر میں، حشر میں اور میزان پر

آپ فرمائیے گا مدد یا نبی

 

مجھ خطا کار پر مجھ سیہ کار پر

تیرے اکرام ہیں بے عدد یا نبی

 

حاضری کے لئے عرض پرداز ہوں

میری عرضی نہ ہو مسترد یا نبی

 

تیرے در کے غلاموں کی فہرست میں

مجھ سا عاصی بھی ہو نام زد یا نبی

 

تیرا بندہ یہ اشفاقؔ احمد ترا

نعت کہتا رہے تا ابد یا نبی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ