اردوئے معلیٰ

Search

دل نے امیدیں عبث پالی ہوئی ہیں

یہ شبیں تو اور بھی کالی ہوئی ہیں

 

جھانکتی ہیں دن کی خوشیاں کھڑکیوں سے

ہم نے ساری رات پر ٹالی ہوئی ہیں

 

نغمہء کہنہ میں اے حیران سامع

میں نے کچھ تانیں نئی ڈالی ہوئی ہیں

 

بھولی بھالی خواہشوں کی فاختائیں

سب اسیرِ بے پر و بالی ہوئی ہیں

 

آرزوئیں آنکھ سے بہتی ہیں کیسے

دل کے سانچے میں اگر ڈھالی ہوئی ہیں

 

اے مرے خامے سفر کو تیز کر اب

مسندیں احساس کی خالی ہوئی ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ