اردوئے معلیٰ

Search

 

دل پر مرے احساس نے جو حرف لکھا ہے

ہے تیرے سوا کون کہ جس نے وہ پڑھا ہے

 

تصویر تری کثرتِ جلوہ سے ہے معدوم

آئینۂ حیرت ہے کہ آغوش کشا ہے

 

ہر آنکھ ہے رنگوں کی فراوانی سے خیرہ

وحدت کا تری بھید کھلا تھا نہ کھلا ہے

 

تو نے ہی تو ہر مرحلۂ شوق میں یارَبّ!

اِس چشمِ تماشا کو نیا عزم دیا ہے

 

جو تو نہیں چاہے وہ کبھی ہو نہیں سکتا

ہر کام فقط تیرے ارادے سے ہوا ہے

 

ہر جاں کو تسلی کہ حفاظت میں ہے تیری

ہر زخم تری چشمِ عنایت سے بھرا ہے

 

ایماں ترے ہونے کا، مری جاں کا اثاثہ

ایقان ترے قُرب کا اس دل کی جِلا ہے

 

تو نے ہی مجھے نُطق کی دولت سے نوازا

تو نے مرے احساس کو اظہار دیا ہے

 

احسنؔ پہ عنایات کے دَر باز ہوں یاربّ

یہ دشتِ تحیّر میں تجھے ڈھونڈ رہا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ