دل کا احساس بھی جب لفظ میں ضم ہوتا ہے

دل کا احساس بھی جب لفظ میں ضم ہوتا ہے

تب کہیں نعت کا اک شعر رقم ہوتا ہے

 

ضبط تحریر میں کب ان کا مقام آئے گا

جن کے در پر سر جبریل بھی خم ہوتا ہے

 

اسم اعظم ہے مرے واسطے اسم احمد

دور اس سے مرا ہر ایک الم ہوتا ہے

 

بے نیازانہ گزر جاتا ہے ہر مشکل سے

جس پہ آقائے دو عالم کا کرم ہوتا ہے

 

سارے عالم کی کفالت کا ہے سر چشمہ مگر

ان کی رحمت کا ذخیرہ کہاں کم ہوتا ہے

 

اے مرے دل اسے سر آنکھوں پہ اپنے رکھنا

دافع غم مرے سرکار کا غم ہوتا ہے

 

فیض نوّاب سے تحریک اسے ملتی ہے کفیل

جب رواں جادۂ مدحت پہ قلم ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات