اردوئے معلیٰ

Search

دل کا سکون بن گئی بعثت حضور کی

ہر غمزدہ نے پائی ہے رحمت حضور کی

 

آدم سے لے کے عیسیٰ تلک سب ہیں مقتدی

تسلیم کی ہے سب نے امامت حضور کی

 

نازاں ہوں اپنے بخت کی خوبی پہ دوستو

پیدا ہوا تو ساتھ تھی نسبت حضور کی

 

روزِ جزا کا خوف نہیں ہے غلام کو

تسکین زا ہے شانِ شفاعت حضور کی

 

منسوخ ہو چکا ہے ہر اک دینِ سابقہ

قائم رہے گی صرف شریعت حضور کی

 

زاہدؔ کرے نثار یہ دل جان آپ پر

ایمان کی نشانی ہے حرمت حضور کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ