اردوئے معلیٰ

Search

دل کی بستی مین خزاؤں کے عذاب آتے ہیں

اس بیاباں میں کہاں تازہ گلاب آتے ہیں

 

تم ناں اب اپنے لئے اور ٹھکانہ ڈھونڈو

ان دنوں مجھ کو کسی اور کے خواب آتے ہیں

 

ایسے لوگوں کو لگاتی ہی نہیں منہ ورنہ

ایسی باتوں کے مجھے خوب جواب آتے ہیں

 

عین ممکن ہے کہ وحشت میں کمی آ جائے

اس خرابے میں اگر ہم سے خراب آتے ہیں

 

ضد پہ آؤں تو ذرا دیر نہ سوچوں لیکن

یاد آتے ہیں تو بے حد و حساب آتے ہیں

 

ہم کسی دل کو اذیت تو نہیں دیتے ہیں

ہم کو اے دوست یہی کار ثواب آتے ہیں

 

پیاس میں ریت بھی لگ سکتی ہے دریا جیسی

یار رستے میں بہت سارے سراب آتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ