دل کے بہلانے کو سامان بہت رکھا ہے

دل کے بہلانے کو سامان بہت رکھا ہے

ہاں مگر عشق میں نقصان بہت رکھا ہے

اب یہ بہتر ہے انہیں اور کوئی گھر لے دوں

تیرے دکھ درد کو مہمان بہت رکھا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ شہر ایسے حریصوں کا شہر ھے کہ یہاں
کون کہتا ہے اس کو پورا خط
اذانوں میں صلوٰتوں میں، خدا پیشِ نظر ہر دم
خدا کی ذات پر ہر انس و جاں بھی ناز کرتا ہے
سبھی آفاق سے وہ ماوراء ہے
خدا نے کی عطا اپنی محبت
عبادت ہو خُدا کی اِس ادا سے
یہی ارشاد ہے ربّ العلیٰ کا
محبت پیار کا موسم مبارک
خدا کا پیار ستر ماؤں جیسا

اشتہارات