دل ہی نہیں تو دل کے سہاروں کو کیا کروں

دل ہی نہیں تو دل کے سہاروں کو کیا کروں

جب پاس تم نہیں تو بہاروں کو کیا کروں

جلووں سے جس کے چاند ستاروں میں تھی ضیاء

اب وہ ہنسی نہیں ستاروں کو کیا کروں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ