اردوئے معلیٰ

Search

دماغ و روح میں جلوے سمائے جاتے ہیں

وہ پیار بن کے دلوں کو سجائے جاتے ہیں

 

عجب ہے فلسفہ سرکار کی محبت کا

دکھے بغیر وہ اپنا بنائے جاتے ہیں

 

خمار جلوۂ یوسف کو کیا کریں جبریل

تمہارے تلوؤں سے آنکھیں لگائے جاتے ہیں

 

کِھلی ہے بزم محبت میں دلکشی ان کی

وہ حسن بن کے سر عرش چھائے جاتے ہیں

 

ترے مراتب اعلیٰ پہ دل ہے سجدہ ریز

یہاں خرد کے قدم دور پائے جاتے ہیں

 

تری سواری کے قدموں کی دھول کا اعجاز

اسی دوا سے تو مردے جلائے جاتے ہیں

 

یہ داغ عشق شہ دیں ہے بس متاع عزیز

اسی سے اجڑے ہوئے دل بسائے جاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ