اردوئے معلیٰ

دنیا سے اِس طرح ہو رُخصت غلام تیرا

دنیا سے اِس طرح ہو رُخصت غلام تیرا

ہو دل میں یاد تیری ہو لب پہ نام تیرا

 

ہر ماسوا سے غافل شوقِ لقا میں تیرے

ہو جان و دل سے حاضر سُن کر پیام تیرا

 

ہے خوبیٔ دو عالم اِک حُسنِ خاتمہ پر

کرنا سَر اِس مہم کا ادنیٰ ہے کام تیرا

 

رگ رگ میں مرتے دم ہو صدقِ یقیں کے باعث

تیرے نبی کی وقعت اور احترام تیرا

 

منکر نکیر آکر دے جائیں یہ بشارت

تجھ کو رہے مبارک حسنِ ختام تیرا

 

رحمت سے بخش دینا میرے گُناہ سارے

روزِ جزا نہ دیکھوں میں انتقام تیرا

 

ہوں ارذلِ خلائق اشرف کا واسطہ ہو

شافع ہو جو نبی ہے خیرالانام تیرا

 

اپنے کرم سے کرنا مجھ کو بھی اِن میں شامل

جِن پر عذاب یا رب ہوگا حرام تیرا

 

اوروں کے آگے رُسوا کرنا نہ مجھ کو مولیٰ

آگے تیرے خجل ہے عاصی غلام تیرا

 

دینا جگہ مجھے بھی بندوں میں خاص اپنے

جب منعقد ہو یا رب دربارِ عام تیرا

 

محشر میں ہو پہنچ کر اس تشنہ لب کو حاصل

تیرے نبی کے ہاتھوں کوثر کا جام تیرا

 

جنت میں چشمِ حیرت ہو شاد کام میری

جلوہ رہے میسّر اس کو مدام تیرا

 

ہو جُملہ انبیاء پر اصحاب و اولیاء پر

دائم صلوٰۃ تیری ، پیہم سلام تیرا

 

دونوں جہاں کا دُکھڑا مجذوبؔ رو چکا ہے

اب آگے فضل کرنا یا رب ہے کام تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ