دنیا کی تمنا ہے نہ جنت ہے نظر میں

دنیا کی تمنا ہے نہ جنت ہے نظر میں

سب کچھ ہے اگرآپ ﷺ کی سیرت ہے نظر میں

 

اب دھیان فقط آپ ﷺ! کی چوکھٹ پہ لگا ہے

محرومِ حضوری ہوں، اجازت ہے نظر میں

 

کشکول لیے پھرتا ہوں خالی مرے آقا ﷺ!

ہاں آپ ﷺ کا اندازِ سخاوت ہے نظر میں

 

اب کوئی بھی معیار نظر میں نہیں جچتا

تقوے میں ابو ذرؓ کی شباہت ہے نظر میں

 

حالات کڑے ہیں، پہ بصیرت وہ نہیں ہے

اصحابِؓ نبی ﷺ کی جو بصیرت ہے نظر میں

 

واعظ کو بھروسہ ہے جو اعمال پر اپنے

عاصی ہوں! محمد ﷺ کی شفاعت ہے نظر میں

 

صد شکر عزیزؔ اب مجھے توفیق ملی ہے

اِک صاحبِ اوصاف ﷺ کی مدحت ہے نظر میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
نہ عرش، ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے
آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں
سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے
آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ