اردوئے معلیٰ

Search

دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپ ہیں

اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپ ہیں

 

یہ بھی ہے سچ کہ آپ کی گفتار ہے جمیل

یہ بھی ہے حق کہ صاحبِ کردار آپ ہیں

 

ہو لاکھ آفتابِ قیامت کی دھوپ تیز

میرے لیے تو سایہِ دیوار آپ ہیں

 

مجھ کو کسی سے حاجتِ چارہ گری نہیں

ہر غم مجھے عزیز کہ غم خوار آپ ہیں

 

انسان مال و زر کے جنوں میں ہے مبتلا

اس حشر میں ندیم کو درکار آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ