اردوئے معلیٰ

دوائیں رکھتے ہوئے، نشتروں کے ہوتے ہوئے

مرض تو بڑھ گئے چارہ گروں کے ہوتے ہوئے

 

حریفِ جاں! یہ روایت نہیں ہماری کہ ہم

عمامے پیروں میں رکھ دیں سروں کے ہوتے ہوئے

 

ثبوت اور میں کیا دوں تجھے اسیری کا

اُڑانیں دیکھ تو میری پروں کے ہوتے ہوئے

 

ہر آدمی ہے تلاشِ اماں میں سرگرداں

تمام شہر ہے بے گھر گھروں کے ہوتے ہوئے

 

یہ سوچنے کی نہیں فیصلے کی ساعت ہے

گزر نہ جائے کہیں مشوروں کے ہوتے ہوئے

 

یہ فاصلے تو بڑھے جا رہے ہیں روزبروز

تمام ہاتھوں میں نامہ بروں کے ہوتے ہوئے

 

تم اُن کی گرد میں منزل کو ڈھونڈتے ہو ظہیرؔ

جو کارواں ہوئے گم رہبروں کے ہوتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات