دوستو! نور کے خزینے کا

دوستو! نور کے خزینے کا

پیار دل میں ہے بس مدینے کا

 

نور پھیلا ہوا ہے عالم میں

نورِ وحدت کے اُس نگینے کا

 

گلشنِ رنگ و بو میں ہے اُن کے

رشکِ عنبر اثر پسینے کا

 

اُن کے آنے سے پوری دنیا میں

سب نے سیکھا ہے ڈھنگ جینے کا

 

میں بھی پڑھ کر مدینے جاؤں گا

ذکر قرآن میں قرینے کا

 

اُن کے میخانے سے کبھی اُن سے

میں شرف پاؤں جام پینے کا

 

جگ سوالی ہے شاہِ بطحا کا

رحمتوں کے بھرے خزینے کا

 

سال بھر فیض جاری رہتا ہے

جشنِ میلاد کے مہینے کا

 

جاگتی آنکھ سے رضاؔ کو بھی

کاش! دیدار ہو مدینے کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد
پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر
خوشا نصیب یہ بندہ بھی نعت کہتا ہے
واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا
ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود
جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا
جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

اشتہارات