اردوئے معلیٰ

دوستو! نور کے خزینے کا

پیار دل میں ہے بس مدینے کا

 

نور پھیلا ہوا ہے عالم میں

نورِ وحدت کے اُس نگینے کا

 

گلشنِ رنگ و بو میں ہے اُن کے

رشکِ عنبر اثر پسینے کا

 

اُن کے آنے سے پوری دنیا میں

سب نے سیکھا ہے ڈھنگ جینے کا

 

میں بھی پڑھ کر مدینے جاؤں گا

ذکر قرآن میں قرینے کا

 

اُن کے میخانے سے کبھی اُن سے

میں شرف پاؤں جام پینے کا

 

جگ سوالی ہے شاہِ بطحا کا

رحمتوں کے بھرے خزینے کا

 

سال بھر فیض جاری رہتا ہے

جشنِ میلاد کے مہینے کا

 

جاگتی آنکھ سے رضاؔ کو بھی

کاش! دیدار ہو مدینے کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات