دوسری ملاقات

آج سترہ(۱۷) دِنوں بعد
میں نے اُسے دیکھا تھا
وہ کسی زرد سوکھی ہوئی پتّیوں کی طرح
کرب چہرے پہ اوڑھے ہوئے
جب مرے پاس سے گذری وہ
اُس سے ملنے کی جتنی خوشی تھی مجھے
اُس کے چہرے کی پژمردگی دیکھ کر
سب اکارت گئی۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کہیں جو خوبیٔ قسمت سے مجھ کو مِل جاتیں
ہم اہلِ عشق ہیں ، صدیوں کو چمکاتے رہیں گے
ضبطِ تولید
وطنِ عزیز میں حکومت کی تبدیلی پر
اند یشہ
کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں
آہنی دیوار میں در دیکھنا
ہوتا ہے بازگشت میں جیسے صدا کے ساتھ
حافظہ
Selfie