اردوئے معلیٰ

Search

دولتِ عشق ملے، عزتِ دارین ملے

دَر پر آیا ہوں مجھے صدقۂ حَسنین ملے

 

مضطرب پھرتا ہے مداحِ رسولِ عربی

نعت ہو جائے تو اِس روح کو کچھ چَین ملے

 

ربِ احمد بھی کریم، احمدِ مُرسَل بھی کریم

کیسے خوش بخت ہیں ہم، ہم کو کریَمین ملے

 

ہاں ذرا چھیڑ مواخاتِ مدینہ کی وہ بات

کیا محبت تھی کہ آپس میں فریقَین ملے

 

دھیان جاتا ہے مدینے کو، کبھی کعبے کو

لطف کیا کیا نہ مرے شوق کو مابیَن ملے

 

کچھ بھی پوچھا نہ فقط نعت کی فرمائش کی

گوشۂ قبر میں جب مجھ کو نکیرَین ملے

 

ان کی دو آنکھوں پہ قربان دو عالم انورؔ

زندگی میں ہی جنہیں سرورِ کونَین ملے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ