دونوں جہاں کے سلطاں تشریف لا رہے ہیں

دونوں جہاں کے سلطاں تشریف لا رہے ہیں

یعنی شہِ رسولاں تشریف لا رہے ہیں

 

عالی نسب ہے جن کا، رحمت لقب ہے جن کا

وہ فخرِ نوعِ انساں تشریف لا رہے ہیں

 

جن کے سوا کوئی بھی پہونچا نہیں وہاں تک

وہ لا مکاں کے مہماں تشریف لا رہے ہیں

 

پڑھتے ہیں نعت میرے دیوار و بام سارے

گھر میرے جان خوباں تشریف لا رہے ہیں

 

جود و نوال و شفقت ، لطف و کرم ، عنایت

وہ ہم پہ کرنے ارزاں تشریف لا رہے ہیں

 

اے ساکنانِ عالم ! گاؤ خوشی کے نغمے

رب جن کا ہے ثنا خواں تشریف لا رہے ہیں

 

وہ بیکسوں کے حامی، وہ بے بسوں کے ملجا

وہ غمزدوں کے پرساں تشریف لا رہے ہیں

 

دینے سبق جہاں کو تہذیب و راستی کا

وہ ناز ہر دبستاں تشریف لا رہے ہیں

 

دوزخ جو بن چکا ہے آقا پھر اس چمن کو

کرنے حسیں گلستاں تشریف لا رہے ہیں

 

آقا سوالیوں کو دینے جوابِ مثبت

بھرنے ہر ایک داماں تشریف لا رہے ہیں

 

اے نورؔ امن جس کی پہچان بن چکی ہے

اس مملکت کے نگراں تشریف لا رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ