اردوئے معلیٰ

دو جہاں پر ہے جو چهایا وہ اجالا آپ ہیں

دو جہاں پر ہے جو چھایا وہ اجالا آپ ہیں

جس سے ہے ایجاد عالم کی وہ نقشہ آپ ہیں

 

جس سے ہوتا ہے مداوہ عشق کے بیمار کا

دل غلاموں کا یہ کہتا ہے وہ نسخہ آپ ہیں

 

جس جگہ جبریل (علیہ السلام )کا پہونچا نہیں وہم و گماں

اس جگہ اللہ کے مہمان آقا آپ ہیں

 

کس میں تهی طاقت کہ جاتا وہ خدا کے سامنے

جو گئے بن کر شبِ معراج دولہا آپ ہیں

 

ہر کوئی سیراب ہے خالی نہ دامن ہے کوئی

رحمتوں کا موجزن ہے جو وہ دریا آپ ہیں

 

لاکه پیغمبر جہاں میں آئے ہیں لیکن فقط

جن کی کرتا ہے خدا توصیف آقا آپ ہیں

 

اے تبسم جب نہ ہوگا حشر میں حامی کوئی

اس گھڑی سر پر گنہگاروں کے سایہ آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ