اردوئے معلیٰ

دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ نبی کا

دو عالم میں بٹتا ہے صدقہ نبی کا

حسینؓ و حسنؓ فاطمہؓ اور علیؓ کا

 

جہاں بادشہ بھی ہیں دامن پسارے

خوشا کہ گدا ہوں میں ایسے سخی کا

 

مدینے میں سرکار مجھ کو بلا لیں

میں ہوں منتظر کب سے ایسی گھڑی کا

 

کلامِ خدا، جن و انس و مَلَک میں

کہاں پر نہیں ذکر ان کی گلی کا

 

مدینے میں یا رب! مجھے موت آئے

یہی مدعا ہے مری زندگی گا

 

مدینے کا اِک خار مِل جائے آصف

میں طالب نہیں پھول کا یا کَلی کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ