اردوئے معلیٰ

دو عالم میں جو نور پھیلا ہُوا ہے

دو عالم میں جو نور پھیلا ہُوا ہے

یہ مہرِ حرا سے اُجالا ہُوا ہے

 

گدا پر کرم ان کا ایسا ہوا ہے

نہ سہما کبھی اور نہ تنہا ہوا ہے

 

برستی ہے رب کی سدا اُس پہ رحمت

درِ مصطفی جس نے تھاما ہُوا ہے

 

نہ بھائے گا اُن کو کوئی اور منظر

مدینہ جن آنکھوں نے دیکھا ہُوا ہے

 

نظر پڑ گئی جس پہ میرے نبی کی

کہیں پہ بھی پھر وہ نہ رُسوا ہُوا ہے

 

اسے یہ زمانہ گرائے گا کیسے؟

جسے مصطفی نے سنبھالا ہُوا ہے

 

بکھیرے گا کیسے کوئی ہم کو آصف

محبت نے اُن کی سمیٹا ہُوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ