دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمدؐ

دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمدؐ

کہ وجہِ زمیں آسماں ہیں محمدؐ

 

جو پوچھا کسی نے ، ہے کیا مال و دولت

بتایا یہ دل ہے یہاں ہیں محمدؐ

 

بصارت میں گر ہو بصیرت بھی شامل

تو ہر سو ہر اک جا عیاں ہیں محمدؐ

 

جہاں سے وہ گزریں زمیں معتبر ہے

ہے جنت وہاں پر جہاں ہیں محمدؐ

 

غنیم ان کے کردار کی دے گواہی

کریم ایسے شیریں بیاں ہیں محمدؐ

 

ہوں عاصی عطا، پر مری خوش نصیبی

دلاسا ہے یہ، درمیاں ہیں محمدؐ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
جو وہاں حاضری کا ارادہ کرے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
ترےؐ غلام کا انعام ہے عذاب نہیں
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
تری رحمت سے اذنِ حاضری کی جب خبر آئی
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
شاخِ سدرہ کے قلم سے مصطفیٰ کی بات ہو
سلام علیک اے نبی مکرم
اُنہی کے نام مُعَنْوَن کروں عقیدت بھی

اشتہارات