اردوئے معلیٰ

دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمد

کہ وجہِ زمیں آسماں ہیں محمد

 

جو پوچھا کسی نے ، ہے کیا مال و دولت

بتایا یہ دل ہے یہاں ہیں محمد

 

بصارت میں گر ہو بصیرت بھی شامل

تو ہر سو ہر اک جا عیاں ہیں محمد

 

جہاں سے وہ گزریں زمیں معتبر ہے

ہے جنت وہاں پر جہاں ہیں محمد

 

غنیم ان کے کردار کی دے گواہی

کریم ایسے شیریں بیاں ہیں محمد

 

ہوں عاصی عطا، پر مری خوش نصیبی

دلاسا ہے یہ، درمیاں ہیں محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات