دَرسِ قُرآں ہے برابر ہر ادا کا احترام

دَرسِ قُرآں ہے برابر ہر ادا کا احترام

سب پہ لازِم ہے جہاں میں مصطفی کا احترام

 

جس کے دِل میں حُسن والے مصطفی سے ہے وَفا

قُدسیوں نے بھی کیا اُس باوَفا کا احترام

 

ہر دُعا سے پیشتر دینا نبی کا واسطہ

تا کہ ہو بابِ اثر پر ہر دُعا کا احترام

 

رب نے فرمایا جہاں سے جو نبی دیں لو وہی

جان سے بڑھ کر کرو اُن کی عطا کا احترام

 

پیارے آقا کی شفاعت کا یہ فیضاں دیکھیے

خُلد والوں نے کیا مجھ پُرخطا کا احترام

 

اُس کے گُلشن کو خزاں کا خوف کچھ بھی تو نہیں

جس کے دِل میں ہے مدینے کی صبا کا احترام

 

اُن کی مِدحت کے سبب ہاں اُن کی مِدحت کے سبب

ہو رہا ہے خوب دُنیا میں رضاؔ کا احترام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جُز غمِ ہجرِ نبیؐ ہر غم سے ہوں ناآشنا​
ترے حضور یہ سوغات لکھ کے لایا ہوں
دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
کس قدر رتبہ ہے برتر والئی کونین کا
اے شہرِ علم و عالمِ اسرارِ خشک و تر​
میں قطرۂ آب سے بھی کمتر
اس کو نہ چھو سکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ
چمک جب تک رہی اعمال میں اُس پاک سیرت ﷺ کی
جُود وعطا میں فرد،وہ شاہِؐ حجاز ہے
رَب کا منشا تھا حضور ﷺ آپ کا ظاہر ہونا