دُعا کے حرف میں، بحرِ عطا میں رہتی ہے

دُعا کے حرف میں، بحرِ عطا میں رہتی ہے

کہ نعت زیست ہے دستِ ُخدا میں رہتی ہے

 

خْدا کرے مری لوحِ جبین میں چمکے

وہ زندگی جو ترے نقشِ پا میں رہتی ہے

 

لبوں کے کاسۂ عجز و نیاز میں رکھ دے

عطائے خاص جو حرفِ ثنا میں رہتی ہے

 

ہر ایک صبح ترے تذکرے سے روشن ہے

ہر ایک شب ترے خوابِ لقا میں رہتی ہے

 

عجیب ہے ترے شوقِ وصال کی نکہت

بکھر کے اور زیادہ فضا میں رہتی ہے

 

کوئی طلب نہیں رکھنی تری طلب کے سوا

یہ خوئے شوق ترے ہر گدا میں رہتی ہے

 

ترے خیال کے پہلو میں وہ علیؑ کی نماز

قضا کے بعد بھی وقتِ ادا میں رہتی ہے

 

گماں کے ہاتھ پہ رکھے ہوئے ہیں نعلِ پا

یہ روشنی ہے، کفِ نا رسا میں رہتی ہے

 

سفر کا مقصد و مقصودؔ بس مدینہ ہے

اسی سفر کی لگن ہر ادا میں رہتی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ