دُعا ہے سب نقابِ رُخ اُٹھا دیں

دُعا ہے سب نقابِ رُخ اُٹھا دیں

مجھے بھی جلوئہ زیبا دِکھا دیں

 

مِرے گھر میں اُجالے آ بسیں گے

ذرا سا آپ آ کر مُسکرا دیں

 

طلب بھی ہے عطا ہو جام ساقی!

ذرا سا ہی سہی لیکن پِلا دیں

 

تڑپتے ہیں جو رنج و غَم کے مارے

مسیحائی کریں اُن کو شِفا دیں

 

بنو گے جنتی تم بھی رضاؔ جی

یہ مُثردہ تو کبھی آ کر سُنا دیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں
شفیع الوریٰ() کو درودوں کا عطیہ​
مہکی ہے فضا گیسوئے محبوب عرب سے
ہیں سرپہ مرے احمد مشکل کشا کے ہاتھ

اشتہارات